تمہید [آئینِ پاکستان، ۱۹۷۳ء]

بِسْمِ اللّٰہِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِیْمِ
(شروع کرتا ہوں اللّٰہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے)
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا دستور
[۱۲/اپریل، ۱۹۷۳ء]

• تمہید

چونکہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود میں استعمال کرنے کا اختیار ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے؛ چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے؛
جس میں مملکت اپنے اختیارات اور اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی؛ جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا؛
جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔
جس میں قرارواقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں؛
جس میں وہ علاقے جو اس وقت پاکستان میں شامل یا ضم ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو بعد ازیں پاکستان میں شامل یا ضم ہوں ایک وفاق بنائیں گے جس میں وحدتیں اپنے اختیارات اور اقتدار پر ایسی حدود اور پابندیوں کے ساتھ جو مقرر کردی جائیں، خودمختار ہوں گی۔
جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے تابع حیثیت اور مواقع مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال، اظہارِخیال، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی؛
جس میں اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرارواقعی انتظام کیا جائے گا؛
جس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی؛
جس میں وفاق کے علاقوں کی سالمیّت، اس کی آزادی اور زمین، سمندر اور فضاء پر اس کے حقوق مقتدر کے بشمول اس کے جملہ حقوق کی حفاظت کی جائے گی؛
تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کرسکیں اور اقوامِ عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کرسکیں اور بین الاقوامی امن اور بنی نوع انسان کی ترقی اور خوش حالی میں اپنا پورا حصہ ادا کرسکیں:
لہٰذا، اب ہم جمہورِپاکستان؛
قادِرِمَطلق اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ؛ پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ؛
بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی؛
اس جمہوریت کے تحفظ کے لئے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم وستم کے خلاف عوام کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے؛
اس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعہ مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کرکے اپنی قومی اور سیاسی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں؛
بذریعہ ہٰذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کرکے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔

حِصّہ اوّل

• ابتدائیہ
• جمہوریہ اور اس کے علاقہ جات۔
۱؎ ۱۔ مملکتِ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا جسے بعدازیں پاکستان کہا جائے گا۔
۲؎ [(۲) پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے
(الف) صوبہ جات ۳؎ [بلوچستان]، ۴؎ [خیبرپختونخوا]، پنجاب اور ۵؎ [سندھ]؛
(ب) دارالحکومت اسلام آباد کا علاقہ جس کا حوالہ بعد ازیں وفاقی دارالحکومت کے طور پر دیا گیا ہے؛ ۶؎ [اور] ۷؎ (……)
۸؎ (ج) ایسی ریاستیں اور علاقے جو الحاق کے ذریعہ یا کسی اور طریقے سے پاکستان میں شامل ہیں یا ہوجائیں۔
(۳) ۹؎ [مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)] بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی قیود و شرائط پر داخل کرسکے گی جو وہ مناسب سمجھے]۔
• اسلام مملکتی مذہب ہوگا۔
۲۔ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔
• قراردادِمقاصد مستقل احکام کا حصّہ ہوگی۔
۱۰؎ [۲ الف۔ ضمیمہ میں نقل کردہ قراردادِمقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو بذریعہ ہٰذا دستور کا مستقل حِصّہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور وہ بحسبہٖ مؤثر ہوں گے۔]
• استحصال کا خاتمہ۔
۳۔ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔
• افراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے۔
۴۔ (۱) ہر شہری کا خواہ کہیں بھی ہو، اور کسی دوسرے شخص کا جو فی الوقت پاکستان میں ہو، یہ ناقابلِ انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
(۲) خصوصًا…_
(الف) کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان، آزادی جسم، شہرت یا املاک کے لئے مضر ہو، سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے؛
(ب) کسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے میں ممانعت یا مزاحمت نا ہوگی جو قانونًا ممنوع نہ ہو؛ اور
(ج) کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا جس کا کرنا اس کے لئے قانونًا ضروری نہ ہو۔
• مملکت سے وفاداری اور دستور اور قانون کی اطاعت۔
۵۔ (۱) مملکت سے وفاداری ہرشخص کا بنیادی فرض ہے۔
(۲) دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو ۱۱؎ [واجب التعمیل] ذمہ داری ہے۔
• سنگین غداری۔
۶۔ ۱۲؎ [(۱) کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیرآئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے، تخریب کرے یا معطل کرے یا التواء میں رکھے یا اقدام کرے یا تنسیخ کرنے کی سازش کرے یا تخریب کرے یا معطل یا التواء میں رکھے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔]
(۲) کوئی شخص جو شق (۱) میں مذکورہ افعال میں مدد کرے گا یا معاونت کرے گا، ۱۳؎ [یا شریک ہوگا] اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔
۱۴؎ [(۲۔ الف) شق (۱) یا شق (۲) میں درج شدہ سنگین غداری کا عمل کسی عدالت کے ذریعے بشمول عدالتِ عُظمیٰ اور عدالت عالیہ جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔]
(۳) ۹؎[مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)] بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔

۱۔ دستور کے احکام، ماسوائےآرٹیکل ۶، ۸ تا ۲۸ (دونوں شامل ہیں) آرٹیکل ۱۰۱ کی شق ۲ اور (۲الف)، آرٹیکل ۱۹۹، ۲۱۳ تا ۲۱۶ (دونوں شامل ہیں) اور ۲۷۰الف، ۱۰ مارچ ۱۹۸۵ء سے بذریعہ ایس_آر_او نمبر ۲۱۲(۱)/۸۵ بتاریخ ۱۰ مارچ، ۱۹۸۵ء جریدہ پاکستان غیرمعمولی، حصہ دوم، صفحہ ۲۷۹ موثر بہ عمل ہیں اور مذکورہ بالا آرٹیکل ۳۰/دسمبر، ۱۹۸۵ء سے بذریعہ ایس_آر_او نمبر ۱۲۷۳(۱)/۸۵ بتاریخ ۲۹ دسمبر، ۱۹۸۵ء جریدہ پاکستان غیرمعمولی حصہ دوم، صفحہ ۳۱۸۵، موثر بہ عمل ہیں۔
۲۔ دستور (ترمیم اوّل) ایکٹ، ۱۹۷۴ء (نمبر۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۲ کی رُو سے شقات (۲)، (۳) اور (۴) کی بجائے تبدیل کی گئیں (نفاذپذیر از ۴ مئی، ۱۹۷۴ء)۔
۳۔ دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳ کی رُو سے “بلوچستان” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۴۔ بحوالہ عین ماقبل “شمال مغربی سرحد” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۵۔ بحوالہ عین ماقبل “سندھ” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۶۔ دستور (پچیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۸ء کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔
۷۔ بحوالہ عین ماقبل کی رُو سے حذف کیا گیا۔
۸۔ بحوالہ عین ماقبل کی رُو سے “(د)” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۹۔ احیائےدستور۱۹۷۳ کا فرمان ۱۹۸۵ء (فرمانِ صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی رُو سے “پارلیمنٹ” کی بجائے تبدیل کئے گئے۔
۱۰۔ بحوالہ عین ماقبل نیا آرٹیکل ۲۔الف۔ شامل کیا گیا۔
۱۱۔ فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے “بنیادی” کی بجائے تبدیل کئے گئے۔
۱۲۔ دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴ کی رُو سے شق (۱) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۱۳۔ بحوالہ عین ماقبل شامل کئے گئے۔
۱۴۔ بحوالہ عین ماقبل نئی شق (۲ الف) شامل کی گئی۔

فہرست [آئینِ پاکستان، ۱۹۷۳ء]

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور

[ترمیم شدہ لغایت ۳۱‌/مئی، ۲۰۱۸ء]

قومی اسمبلی پاکستان

دیباچہ

قومی اسمبلی پاکستان نے ۱۰/اپریل، ۱۹۷۳ء کو دستور کی منظوری دی جس کی توثیق صدر اسمبلی نے ۱۲/اپریل، ۱۹۷۳ء کو کی، اور اسمبلی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور شائع کردیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک، اس میں متعدد ترامیم کی گئی ہیں اور یہ امر لازم اور قرین مصلحت ہوگیا ہے کہ اسمبلی کی جانب سے دستور کا تازہ ترین اور مستند متن شائع کیا جائے۔ 

اس آٹھویں اشاعت، جس کا مقصد دستور کا تازہ ترین متن پیش کرنا ہے، میں آج تک کی گئی تمام ترامیم شامل ہیں۔ 

طاہرحسین،

معتمد، 

قومی اسمبلی سیکٹریٹ۔

اسلام آباد ۱۲/جولائی، ۲۰۱۸ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 

فہرست

تمہید

حصّہ اول 

ابتدائیہ

۱۔ جمہوریہ اور اس کے علاقہ جات۔

۲۔ اسلام مملکتی مذہب ہوگا۔

۲/الف۔ قراردادِمقاصد مستقل احکام کا حصّہ ہوگی۔

۳۔ استحصال کا خاتمہ۔

۴۔ افراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے۔

۵۔ مملکت سے وفاداری اور دستور اور قانون کی اطاعت۔

۶۔ سنگین غداری۔

حصّہ دوم

بنیادی حقوق اور حکمتِ عملی کے اُصول

۷۔ مملکت کی تعریف۔

باب ۱۔ بنیادی حقوق

۸۔ بنیادی حقوق کے نقیض یا منافی قوانین کالعدم ہوں گے۔

۹۔ فرد کی سلامتی۔

۱۰۔ گرفتاری اور نظربندی سے تحفظ۔

۱۰/الف۔ منصفانہ سماعت کا حق۔

۱۱۔ غلامی، بیگار وغیرہ کی ممانعت۔

۱۲۔ مؤثر بہ ماضی سزا سے تحفظ۔

۱۳۔ دوہری سزا اور اپنے کو ملزم گرداننے کے خلاف تحفظ۔

۱۴۔ شرف انسانی وغیرہ قابلِ حُرمت ہوگا۔

۱۵۔ نقل و حرکت وغیرہ کی آزادی۔

۱۶۔ اجتماع کی آزادی۔

۱۷۔ انجمن سازی کی آزادی۔

۱۸۔ تجارت، کاروبار یا پیشے کی آزادی۔

۱۹۔ تقریر وغیرہ کی آزادی۔

۱۹/الف۔ حقِ معلومات۔

۲۰۔ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی۔

۲۱۔ کسی خاص مذہب کی اغراض کے لئے محصول لگانے سے تحفظ۔

۲۲۔ مذہب وغیرہ سے متعلق تعلیمی اداروں سے متعلق تحفظ۔

۲۳۔ جائیداد کے متعلق حکم۔

۲۴۔ حقوقِ جائیداد کا تحفظ۔

۲۵۔ شہریوں سے مساوات۔

۲۵/الف۔ تعلیم کا حق۔

۲۶۔ عام مقامات میں داخلہ سے متعلق عدم امتیاز۔

۲۷۔ ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ۔

۲۸۔ زبان، رسم الخط اور ثقافت کا تحفظ۔

باب ۲۔ حکمتِ عملی کے اصول

۲۹۔ حکمتِ عملی کے اصول۔

۳۰۔ حکمتِ عملی کے اصولوں کی نسبت ذمہ داری۔

۳۱۔ اسلامی طریقِ زندگی۔

۳۲۔ بلدیاتی اداروں کا فروغ۔

۳۳۔ علاقائی اور دیگر مماثل تعصّبات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

۳۴۔ قومی زندگی میں عورتوں کی مکمل شمولیت

۳۵۔ خاندان وغیرہ کا تحفظ۔

۳۶۔ اقلیتوں کا تحفظ۔

۳۷۔ معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ۔

۳۸۔ عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ۔

۳۹۔ مسلح افواج میں عوام کی شرکت۔

۴۰۔ عالمِ اسلام سے رشتے استوار کرنا اور بین الاقوامی امن کو فروغ دینا۔

حصّہ سوم

وفاق پاکستان

باب ۱۔ صدر

۴۱۔ صدر۔

۴۲۔ صدر کا حلف۔

۴۳۔ صدر کے عہدے کی شرائط۔

۴۴۔ صدر کے عہدے کی میعاد۔

۴۵۔ صدر کا معافی وغیرہ دینے کا اختیار۔

۴۶۔ صدر کو آگاہ رکھا جائے گا۔

۴۷۔ صدر کی برطرفی یا مؤاخذہ۔

۴۸۔ صدر مشورے وغیرہ پر عمل کرے گا۔

۴۹۔ چیئرمین یا اسپیکر قائم مقام صدر ہوگا یا صدر کے کارہائےمنصبی انجام دے گا۔

باب ۲۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)

مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی ہیئتِ ترکیبی، میعاد اور اجلاس

۵۰۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)۔

۵۱۔ قومی اسمبلی۔

۵۲۔ قومی اسمبلی کی میعاد۔

۵۳۔ قومی اسمبلی کا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر۔

۵۴۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا اجلاس طلب کرنا اور برخاست کرنا۔

۵۵۔ اسمبلی میں رائے دھندگی اور کورم۔

۵۶۔ صدر کا خطاب۔

۵۷۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں تقریر کا حق۔

۵۸۔ قومی اسمبلی کی تحلیل۔

۵۹۔ سینیٹ۔

۶۰۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین۔

۶۱۔ سینیٹ سے متعلق دیگر احکام۔

مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ارکان کی بابت احکام

۶۲۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کے لئے اہلیت۔

۶۳۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کے لئے نااہلیت۔

۶۳/الف۔ انحراف وغیرہ کی بنیاد پر نااہلیت۔

۶۴۔ نشستوں کا خالی کرنا۔

۶۵۔ ارکان کا حلف۔

۶۶۔ ارکان وغیرہ کے استحقاقات۔

عام طریقہ کار

۶۷۔ قواعد ضابطہ کار وغیرہ۔

۶۸۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں بحث پر پابندی۔

۶۹۔ عدالتیں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی کارروائی کی تحقیقات نہیں کریں گی۔

قانون سازی کا طریقہ کار

۷۰۔ بِل پیش کرنا اور منظور کرنا۔

۷۱۔ [حذف کردیا گیا]۔

۷۲۔ مشترکہ اجلاس میں طریقہ کار۔

۷۳۔ مالی بِلوں کی نسبت طریقہ کار۔

۷۴۔ مالی اقدامات کے لئے وفاقی حکومت کی مرضی ضروری ہوگی۔

۷۵۔ بِلوں کے لئے صدر کی منظوری۔

۷۶۔ بِل اسمبلی کی برخاستگی کی بناء پر ساقط نہیں ہوگا۔

۷۷۔ محصول صرف قانون کے تحت لگایا جائے گا۔

مالیاتی طریقہ کار

۷۸۔ وفاقی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب۔

۷۹۔ وفاقی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب کی تحویل وغیرہ۔

۸۰۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ۔

۸۱۔ وفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف۔

۸۲۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کی بابت طریقہ کار۔

۸۳۔ منظورشدہ مصارف کی جدول کی توثیق۔

۸۴۔ ضمنی اور زائد رقوم۔

۸۵۔ حساب پر رائےشماری۔

۸۶۔ اسمبلی ٹوٹ جانے کی صورت میں خرچ کی منظوری دینے کا اختیار۔

۸۷۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سیکٹریٹ۔

۸۸۔ مالیاتی کمیٹی۔

آرڈینینس

۸۹۔ صدر کا آرڈینینس نافذ کرنے کا اختیار۔

باب ۳۔ وفاقی حکومت

۹۰۔ وفاقی حکومت۔

۹۱۔ کابینہ۔

۹۲۔ وفاقی وزراء اور وزرائےمملکت۔

۹۳۔ مشیران۔

۹۴۔ وزیراعظم کا عہدے پر برقرار رہنا۔

۹۵۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ۔

۹۶۔ [حذف کردیا گیا]۔

۹۷۔ وفاق کے عاملانہ اختیار کی وسعت۔

۹۸۔ ماتحت ہیئت ہائےمجاز کو کارہائےمنصبی کی تفویض۔

۹۹۔ وفاقی حکومت کا انصرام کار۔

۱۰۰۔ اٹارنی جنرل برائے پاکستان۔

حصہ چہارم

صوبے

باب ۱۔ گورنر

۱۰۱۔ گورنر کا تقرر۔

۱۰۲۔ عہدے کا حلف۔

۱۰۳۔ گورنر کے عہدے کی شرائط۔

۱۰۴۔ اسپیکر صوبائی اسمبلی، گورنر کی غیرموجودگی میں بطور گورنر کام یا کارہائےمنصبی انجام دے گا۔

۱۰۵۔ گورنر مشورے وغیرہ پر عمل کرے گا۔

باب ۲۔ صوبائی اسمبلیاں

۱۰۶۔ صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل۔

۱۰۷۔ صوبائی اسمبلی کی میعاد۔

۱۰۸۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر۔

۱۰۹۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنا۔

۱۱۰۔ گورنر کا صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا اختیار۔

۱۱۱۔ صوبائی اسمبلی میں تقریر کرنے کا حق۔

۱۱۲۔ صوبائی اسمبلی کی تحلیل۔

۱۱۳۔ صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لئے اہلیت اور نااہلیت۔

۱۱۴۔ صوبائی اسمبلی میں بحث پر پابندی۔

۱۱۵۔ مالی اقدامات کے لئے صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہوگی۔

۱۱۶۔ بِلوں کے لئے گورنر کی منظوری۔

۱۱۷۔ بِل اجلاس کی برخاستگی وغیرہ کی بنا پر ساقط نہیں ہوگا۔

مالیاتی طریقہ کار

۱۱۸۔ صوبائی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب۔

۱۱۹۔ صوبائی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب کی تحویل وغیرہ۔

۱۲۰۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ۔

۱۲۱۔ صوبائی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف۔

۱۲۲۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کی بابت طریقہ کار۔

۱۲۳۔ منظور شدہ خرچ کی جدول کی توثیق۔

۱۲۴۔ ضمنی اور زائد رقم۔

۱۲۵۔ حساب پر رائےشماری۔

۱۲۶۔ اسمبلی ٹوٹ جانے کی صورت میں خرچ کی منظوری دینے کا اختیار۔

۱۲۷۔ قومی اسمبلی وغیرہ سے متعلق احکام صوبائی اسمبلی وغیرہ پر اطلاق پذیر ہوں گے۔

آرڈینینس

۱۲۸۔ گورنر کا آرڈینینس نافذ کرنے کا اختیار۔

باب ۳۔ صوبائی حکومتیں

۱۲۹۔ صوبائی حکومت۔

۱۳۰۔ کابینہ۔

۱۳۱۔ گورنر کو آگاہ رکھا جائے گا۔

۱۳۲۔ صوبائی وزراء۔

۱۳۳۔ وزیراعلیٰ کا عہدے پر برقرار رہنا۔

۱۳۴۔ [حذف کردیا گیا]۔

۱۳۵۔ [حذف کردیا گیا]۔

۱۳۶۔ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ۔

۱۳۷۔ صوبے کے عاملانہ اختیار کی وسعت۔

۱۳۸۔ ماتحت ہیئت ہائےمجاز کو کارہائےمنصبی کی تفویض۔

۱۳۹۔ صوبائی حکومت کے کاروبار کا انصرام۔

۱۴۰۔ کسی صوبے کے لئے ایڈووکیٹ جنرل۔

۱۴۰/الف۔ مقامی حکومت۔

حصہ پنجم

وفاق اور صوبوں کے مابین تعلقات

باب ۱۔ اختیاراتِ قانون سازی کی تقسیم

۱۴۱۔ وفاقی اور صوبائی قوانین کی وسعت۔

۱۴۲۔ وفاقی اور صوبائی قوانین کے موضوعات۔

۱۴۳۔ وفاقی اور صوبائی قوانین کے مابین تناقض۔

۱۴۴۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا ایک یا زیادہ صوبوں کی رضامندی سے قانون سازی کا اختیار۔

باب ۲۔ وفاق اور صوبوں کے مابین انتظامی تعلقات

۱۴۵۔ صدر کا گورنر کو اپنے عامل کے طور پر بعض کارہائےمنصبی انجام دینے کا حکم دینے کا اختیار۔

۱۴۶۔ وفاق کا بعض صورتوں میں صوبوں کو اختیارات وغیرہ تفویض کرنے کا اختیار۔

۱۴۷۔ صوبوں کا وفاق کو کارہائےمنصبی سپرد کرنے کا اختیار۔

۱۴۸۔ صوبوں اور وفاق کی ذمہ داری۔

۱۴۹۔ بعض صورتوں میں صوبوں کے لئے ہدایت۔

۱۵۰۔ سرکاری کارروائیوں وغیرہ کا پورے طور پر معتبر اور وقیع ہونا۔

۱۵۱۔ بین الصوبائی تجارت۔

۱۵۲۔ وفاقی اغراض کے لئے اراضی کا حصول۔

باب ۳۔ خاص احکام

۱۵۲/الف۔ [حذف کردیا گیا]۔

۱۵۳۔ مشترکہ مفادات کی کونسل۔

۱۵۴۔ کارہائےمنصبی اور قواعد ضابطہ کار۔

۱۵۵۔ آب رسانیوں میں مداخلت کی شکایات۔

۱۵۶۔ قومی اقتصادی کونسل۔

۱۵۷۔ بجلی۔

۱۵۸۔ قدرتی گیس کی ضروریات کی ترجیح۔

۱۵۹۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشریات۔

حصہ ششم

مالیات، جائیداد، معاہدات اور مقدمات

باب ۱۔ مالیات

وفاق اور صوبوں کے مابین محاصل کی تقسیم

۱۶۰۔ قومی مالیاتی کمیشن

۱۶۱۔ قدرتی گیس اور برقابی قوت۔

۱۶۲۔ ایسے محصولات پر جن میں صوبے دلچسپی رکھتے ہوں، اثرانداز ہونے والے بِلوں کے لئے صدر کی ماقبل منظوری درکار ہوگی۔

۱۶۳۔ پیشوں وغیرہ کے بارے میں صوبائی محصولات۔

متفرق مالی احکام

۱۶۴۔ مجموعی فنڈ سے عطیات۔

۱۶۵۔ بعض سرکاری املاک کا محصول سے استثنا۔

۱۶۵/الف۔ بعض کارپوریشنوں وغیرہ کی آمدنی پر محصول عائد کرنے کا مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا اختیار۔

باب ۲۔ قرض لینا اور محاسبہ

۱۶۶۔ وفاقی حکومت کا قرض لینا۔

۱۶۷۔ صوبائی حکومت کا قرض لینا۔

محاسبہ و حسابات

۱۶۸۔ پاکستان کا محاسبِ اعلیٰ۔

۱۶۹۔ محاسبِِ اعلیٰ کے کارہائےمنصبی اور اختیارات۔

۱۷۰۔ حسابات کے متعلق ہدایات دینے کے بارے میں محاسبِ اعلیٰ کا اختیار۔

۱۷۱۔ محاسبِ اعلیٰ کی رپورٹیں۔

باب ۳۔ جائیداد، معاہدات، ذمہ داریاں اور مقدمات

۱۷۲۔ لاوارث جائیداد۔

۱۷۳۔ جائیداد حاصل کرنے اور معاہدات وغیرہ کرنے کا اختیار۔

۱۷۴۔ مقدمات اور کارروائیاں۔

حصہ ہفتم

نظامِ عدالت

باب ۱۔ عدالتیں

۱۷۵۔ عدالتوں کا قیام اور اختیارسماعت۔

۱۷۵/الف۔ عدالت عُظمیٰ، عدالت ہائےعدلیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کا تقرر۔

باب ۲۔ پاکستان کی عدالتِ عُظمیٰ

۱۷۶۔ عدالتِ عُظمیٰ کی تشکیل۔

۱۷۷۔ عدالتِ عُظمیٰ کے ججوں کا تقرر۔

۱۷۸۔ عہدے کا حلف۔

۱۷۹۔ فارغ الخدمت ہونے کی عمر۔

۱۸۰۔ قائم مقام چیف جسٹس۔

۱۸۱۔ قائم مقام جج۔

۱۸۲۔ ججوں کا وقتی طور پر بغرضِ خاص تقرر۔

۱۸۳۔ عدالتِ عُظمیٰ کا صدر مقام۔

۱۸۴۔ عدالتِ عُظمیٰ کا ابتدائی اختیارِسماعت۔

۱۸۵۔ عدالتِ عُظمیٰ کا اختیارِسماعت مرافعہ۔

۱۸۶۔ مشاورتی اختیارِسماعت۔

۱۸۶/الف۔ عدالتِ عُظمیٰ کا مقدمات منتقل کرنے کا اختیار۔

۱۸۷۔ عدالتِ عُظمیٰ کے حکم ناموں کا اجراء اور تعمیل۔

۱۸۸۔ عدالتِ عُظمیٰ فیصلوں یا احکام پر نظرثانی کرنا۔

۱۸۹۔ عدالتِ عُظمیٰ کے فیصلے دوسری عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہیں۔

۱۹۰۔ عدالتِ عُظمیٰ کی معاونت میں عمل۔

۱۹۱۔ قواعد طریقہ کار۔

باب ۳۔ عدالت ہائےعالیہ

۱۹۲۔ عدالتِ عالیہ کی تشکیل۔

۱۹۳۔ عدالتِ عالیہ کے ججوں کا تقرر۔

۱۹۴۔ عہدے کا حلف۔

۱۹۵۔ فارغ الخدمت ہونے کی عمر۔

۱۹۶۔ قائم مقام چیف جسٹس۔

۱۹۷۔ اضافی جج۔

۱۹۸۔ عدالتِ عالیہ کا صدرمقام۔

۱۹۹۔ عدالتِ عالیہ کا اختیارِسماعت۔

۲۰۰۔ عدالت عالیہ کے ججوں کا تبادلہ۔

۲۰۱۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔

۲۰۲۔ قواعد طریقِ کار۔

۲۰۳۔ عدالتِ عالیہ ماتحت عدالتوں کی نگرانی کرے گی۔

باب ۳۔الف

وفاقی شرعی عدالت

۲۰۳/الف۔ اس باب کے احکام دستور کے دیگر احکام پر غالب ہوں گے۔

۲۰۳/ب۔ تعریفات۔

۲۰۳/ج۔ وفاقی شرعی عدالت۔

۲۰۳/ج ج۔ [حذف کردیا گیا]۔

۲۰۳/د۔ عدالت کے اختیارات، اختیارسماعت اور کارہائےمنصبی۔

۲۰۳/دد۔ عدالت کا اختیارسماعت نگرانی اور دیگر اختیار سماعت۔

۲۰۳/ہ۔ عدالت کے اختیارات اور ضابطہ کار۔

۲۰۳/و۔ عدالتِ عُظمیٰ کو اپیل۔

۲۰۳/ز۔ اختیارِسماعت پر پابندی۔

۲۰۳/زز۔ عدالت کا فیصلہ عدالتِ عالیہ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔

۲۰۳/ح۔ زیرسماعت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

۲۰۳/ط۔ [حذف کردیا گیا]۔

۲۰۳/ی۔ قواعد وضع کرنے کا اختیار۔

باب ۴۔ نظامِ عدالت کی بابت عام احکام

۲۰۴۔ توہینِ عدالت۔

۲۰۵۔ ججوں کا مشاہرہ وغیرہ۔

۲۰۶۔ استعفیٰ۔

۲۰۷۔ جج کسی منفعت بخش عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں ہوگا۔

۲۰۸۔ عدالتوں کے عہدیدار اور ملازمین۔

۲۰۹۔ اعلیٰ عدالتی کونسل۔

۲۱۰۔ کونسل کا اشخاص وغیرہ کو حاضر ہونے کا حکم دینے کا اختیار۔

۲۱۱۔ امتناع اختیارِسماعت۔

۲۱۲۔ انتظامی عدالتیں اور ٹریبونل۔

۲۱۲/الف۔ [حذف کردیا گیا]۔

۲۱۲/ب۔ [حذف کردیا گیا]۔

حصہ ہشتم

انتخابات

باب ۱۔ چیف الیکشن کمیشنر اور الیکشن کمیشن

۲۱۳۔ چیف الیکشن کمشنر۔

۲۱۴۔ عہدے کا حلف۔

۲۱۵۔ کمشنر اور ارکان کے عہدے کی میعاد۔

۲۱۶۔ کمشنر اور ارکان کسی منفعت بخش عہدے پر فائز نہیں ہوں گے۔

۲۱۷۔ قائم مقام کمشنر۔

۲۱۸۔ الیکشن کمیشن۔

۲۱۹۔ کمیشن کے فرائض۔

۲۲۰۔ حکامِ عاملہ کمیشن وغیرہ کی مدد کریں گے۔

۲۲۱۔ افسران اور عملہ۔

باب ۲۔ انتخابی قوانین اور انتخابات کا انعقاد

۲۲۲۔ انتخابی قوانین۔

۲۲۳۔ دوہری رکنیت کی ممانعت۔

۲۲۴۔ انتخاب اور ضمنی انتخاب کا وقت۔

۲۲۴/الف۔ کمیٹی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے تصفیہ۔

۲۲۵۔ انتخابی تنازعہ۔

۲۲۶۔ انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعہ ہوں گے۔

حصہ نہم

اسلامی احکام

۲۲۷۔ قرآن پاک اور سنت کے بارے میں احکام۔

۲۲۸۔ اسلامی کونسل کی ہیئتِ ترکیبی وغیرہ۔

۲۲۹۔ اسلامی کونسل سے مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی مشورہ طلبی۔

۲۳۰۔ اسلامی کونسل کے کارہائےمنصبی۔

۲۳۱۔ قواعد طریقہ کار۔

حصہ دہم

ہنگامی احکام

۲۳۲۔ جنگ، داخلی خلفشار وغیرہ کی بنا پر ہنگامی حالت کا اعلان۔

۲۳۳۔ ہنگامی حالت کی مدت کے دوران بنیادی حقوق وغیرہ کو معطل کرنے کا اختیار۔

۲۳۴۔ کسی صوبے میں دستوری احکام ناکام ہوجانے کی صورت میں اعلان جاری کرنے کا اختیار۔

۲۳۵۔ مالی ہنگامی حالت کی صورت میں اعلان۔

۲۳۶۔ اعلان کی تنسیخ وغیرہ۔

۲۳۷۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) بریت وغیرہ کے قوانین وضع کرسکے گی۔

حصہ یازدہم

دستور کی ترمیم

۲۳۸۔ دستور کی ترمیم۔

۲۳۹۔ دستور میں ترمیم کا بِل۔

حصہ دوازدہم

مُتفرقات

باب ۱۔ ملازمتیں

۲۴۰۔ پاکستان کی ملازمت میں تقرر اور شرائط ملازمت۔

۲۴۱۔ موجودہ قواعد وغیرہ جاری رہیں گے۔

۲۴۲۔ پبلک سروس کمیشن۔

باب ۲۔ مسلح افواج

۲۴۳۔ مسلح افواج کی کمان۔

۲۴۴۔ مسلح افواج کا حلف۔

۲۴۵۔ مسلح افواج کے کارہائےمنصبی۔

باب ۳۔ قبائلی علاقہ جات

۲۴۶۔ قبائلی علاقہ جات۔

۲۴۷۔ [حذف کردیا گیا]۔

باب ۴۔ عام

۲۴۸۔ صدر، گورنر، وزیر وغیرہ کا تحفظ۔

۲۴۹۔ قانونی کارروائیاں۔

۲۵۰۔ صدر، وغیرہ کی تنخواہیں، بھتہ جات، وغیرہ۔

۲۵۱۔ قومی زبان۔

۲۵۲۔ بڑی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے متعلق خاص احکام۔

۲۵۳۔ جائیداد وغیرہ پر انتہائی تحدیدات۔

۲۵۴۔ وقت مطلوبہ کے اندر نہ ہونے کے باعث کوئی فعل کالعدم نہ ہوگا۔

۲۵۵۔ عہدے کا حلف۔

۲۵۶۔ نجی افواج کی ممانعت۔

۲۵۷۔ ریاست جموّں و کشمیر سے متعلق حکم۔

۲۵۸۔ صوبوں سے باہر علاقہ جات کا نظم و نسق۔

۲۵۹۔ اعزازات۔

باب ۵۔ توضیح

۲۶۰۔ تعریفات۔

۲۶۱۔ کسی عہدے پر قائم مقام کوئی شخص اپنے پیش رُو کا جانشین وغیرہ نہیں سمجھا جائے گا۔

۲۶۲۔ گریگوری نظامِ تقویم استعمال کیا جائے گا۔

۲۶۳۔ مذکر و مؤنث اور واحد و جمع۔

۲۶۴۔ تنسیخ قوانین کا اثر۔

باب ۶۔ عنوان، آغازِنفاذ اور تنسیخ

۲۶۵۔ دستور کا عنوان اور آغازِنفاذ۔

۲۶۶۔ تنسیخ۔

باب ۷۔ عبوری

۲۶۷۔ مشکلات کے ازالہ کے لئے صدر کے اختیارات۔

۲۶۷/الف۔ ازالہ مشکلات کا اختیار۔

۲۶۷/ب۔ ازالہ شک۔

۲۶۸۔ بعض قوانین کے نفاذ کا تسلسل اور تطبیق۔

۲۶۹۔ قوانین اور افعال وغیرہ کی توثیق۔

۲۷۰۔ بعض قوانین وغیرہ کی عارضی توثیق۔

۲۷۰/الف۔ فرامین صدر، وغیرہ کی توثیق۔

۲۷۰/الف الف۔ قوانین وغیرہ کا استقرار اور تسلسل۔

۲۷۰/ب۔ انتخابات دستور کے تحت منعقد شدہ تصور ہوں گے۔

۲۷۰/ج۔ [حذف کردیا گیا]۔

۲۷۱۔ پہلی قومی اسمبلی۔

۲۷۲۔ سینیٹ کی پہلی تشکیل۔

۲۷۳۔ پہلی صوبائی اسمبلی۔

۲۷۴۔ جائیداد، اثاثہ جات، حقوق، ذمہ داریوں اور وجوب کا تصرف۔

۲۷۵۔ ملازمت پاکستان میں اشخاص کا عہدوں پر برقرار رہنا۔

۲۷۶۔ پہلے صدر کا حلف۔

۲۷۷۔ عبوری مالی احکام۔

۲۷۸۔ حسابات جن کا یومِ آغاز سے پہلے محاسبہ نہ ہوا ہو۔

۲۷۹۔ محصولات کا تسلسل۔

۲۸۰۔ ہنگامی حالت کے اعلان کا تسلسل۔

ضمیمہ

جدول

جدول اوّل۔ آرٹیکل ۸ (۱) اور (۲) کے نفاذ سے مستثنیٰ قوانین۔

جدول دوم۔ صدر کا انتخاب۔

جدول سوم۔ عہدوں کے حلف۔

جدول چہارم۔ قانون سازی کی فہرستیں۔

جدول پنجم۔ ججوں کے مشاہرے اور شرائط و قیود ملازمت۔ 

جدول ششم۔ [حذف کردیا گیا]۔

جدول ہفتم۔ [حذف کردیا گیا]۔