تمہید [آئینِ پاکستان، ۱۹۷۳ء]

بِسْمِ اللّٰہِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِیْمِ
(شروع کرتا ہوں اللّٰہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے)
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا دستور
[۱۲/اپریل، ۱۹۷۳ء]

• تمہید

چونکہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود میں استعمال کرنے کا اختیار ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے؛ چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے؛
جس میں مملکت اپنے اختیارات اور اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی؛ جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا؛
جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔
جس میں قرارواقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں؛
جس میں وہ علاقے جو اس وقت پاکستان میں شامل یا ضم ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو بعد ازیں پاکستان میں شامل یا ضم ہوں ایک وفاق بنائیں گے جس میں وحدتیں اپنے اختیارات اور اقتدار پر ایسی حدود اور پابندیوں کے ساتھ جو مقرر کردی جائیں، خودمختار ہوں گی۔
جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے تابع حیثیت اور مواقع مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال، اظہارِخیال، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی؛
جس میں اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرارواقعی انتظام کیا جائے گا؛
جس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی؛
جس میں وفاق کے علاقوں کی سالمیّت، اس کی آزادی اور زمین، سمندر اور فضاء پر اس کے حقوق مقتدر کے بشمول اس کے جملہ حقوق کی حفاظت کی جائے گی؛
تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کرسکیں اور اقوامِ عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کرسکیں اور بین الاقوامی امن اور بنی نوع انسان کی ترقی اور خوش حالی میں اپنا پورا حصہ ادا کرسکیں:
لہٰذا، اب ہم جمہورِپاکستان؛
قادِرِمَطلق اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ؛ پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ؛
بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدلِ عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی؛
اس جمہوریت کے تحفظ کے لئے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم وستم کے خلاف عوام کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے؛
اس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعہ مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کرکے اپنی قومی اور سیاسی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں؛
بذریعہ ہٰذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کرکے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔

حِصّہ اوّل

• ابتدائیہ
• جمہوریہ اور اس کے علاقہ جات۔
۱؎ ۱۔ مملکتِ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا جسے بعدازیں پاکستان کہا جائے گا۔
۲؎ [(۲) پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے
(الف) صوبہ جات ۳؎ [بلوچستان]، ۴؎ [خیبرپختونخوا]، پنجاب اور ۵؎ [سندھ]؛
(ب) دارالحکومت اسلام آباد کا علاقہ جس کا حوالہ بعد ازیں وفاقی دارالحکومت کے طور پر دیا گیا ہے؛ ۶؎ [اور] ۷؎ (……)
۸؎ (ج) ایسی ریاستیں اور علاقے جو الحاق کے ذریعہ یا کسی اور طریقے سے پاکستان میں شامل ہیں یا ہوجائیں۔
(۳) ۹؎ [مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)] بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی قیود و شرائط پر داخل کرسکے گی جو وہ مناسب سمجھے]۔
• اسلام مملکتی مذہب ہوگا۔
۲۔ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔
• قراردادِمقاصد مستقل احکام کا حصّہ ہوگی۔
۱۰؎ [۲ الف۔ ضمیمہ میں نقل کردہ قراردادِمقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو بذریعہ ہٰذا دستور کا مستقل حِصّہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور وہ بحسبہٖ مؤثر ہوں گے۔]
• استحصال کا خاتمہ۔
۳۔ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔
• افراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے۔
۴۔ (۱) ہر شہری کا خواہ کہیں بھی ہو، اور کسی دوسرے شخص کا جو فی الوقت پاکستان میں ہو، یہ ناقابلِ انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
(۲) خصوصًا…_
(الف) کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان، آزادی جسم، شہرت یا املاک کے لئے مضر ہو، سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے؛
(ب) کسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے میں ممانعت یا مزاحمت نا ہوگی جو قانونًا ممنوع نہ ہو؛ اور
(ج) کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا جس کا کرنا اس کے لئے قانونًا ضروری نہ ہو۔
• مملکت سے وفاداری اور دستور اور قانون کی اطاعت۔
۵۔ (۱) مملکت سے وفاداری ہرشخص کا بنیادی فرض ہے۔
(۲) دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو ۱۱؎ [واجب التعمیل] ذمہ داری ہے۔
• سنگین غداری۔
۶۔ ۱۲؎ [(۱) کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیرآئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے، تخریب کرے یا معطل کرے یا التواء میں رکھے یا اقدام کرے یا تنسیخ کرنے کی سازش کرے یا تخریب کرے یا معطل یا التواء میں رکھے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔]
(۲) کوئی شخص جو شق (۱) میں مذکورہ افعال میں مدد کرے گا یا معاونت کرے گا، ۱۳؎ [یا شریک ہوگا] اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔
۱۴؎ [(۲۔ الف) شق (۱) یا شق (۲) میں درج شدہ سنگین غداری کا عمل کسی عدالت کے ذریعے بشمول عدالتِ عُظمیٰ اور عدالت عالیہ جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔]
(۳) ۹؎[مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)] بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔

۱۔ دستور کے احکام، ماسوائےآرٹیکل ۶، ۸ تا ۲۸ (دونوں شامل ہیں) آرٹیکل ۱۰۱ کی شق ۲ اور (۲الف)، آرٹیکل ۱۹۹، ۲۱۳ تا ۲۱۶ (دونوں شامل ہیں) اور ۲۷۰الف، ۱۰ مارچ ۱۹۸۵ء سے بذریعہ ایس_آر_او نمبر ۲۱۲(۱)/۸۵ بتاریخ ۱۰ مارچ، ۱۹۸۵ء جریدہ پاکستان غیرمعمولی، حصہ دوم، صفحہ ۲۷۹ موثر بہ عمل ہیں اور مذکورہ بالا آرٹیکل ۳۰/دسمبر، ۱۹۸۵ء سے بذریعہ ایس_آر_او نمبر ۱۲۷۳(۱)/۸۵ بتاریخ ۲۹ دسمبر، ۱۹۸۵ء جریدہ پاکستان غیرمعمولی حصہ دوم، صفحہ ۳۱۸۵، موثر بہ عمل ہیں۔
۲۔ دستور (ترمیم اوّل) ایکٹ، ۱۹۷۴ء (نمبر۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۲ کی رُو سے شقات (۲)، (۳) اور (۴) کی بجائے تبدیل کی گئیں (نفاذپذیر از ۴ مئی، ۱۹۷۴ء)۔
۳۔ دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳ کی رُو سے “بلوچستان” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۴۔ بحوالہ عین ماقبل “شمال مغربی سرحد” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۵۔ بحوالہ عین ماقبل “سندھ” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۶۔ دستور (پچیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۸ء کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔
۷۔ بحوالہ عین ماقبل کی رُو سے حذف کیا گیا۔
۸۔ بحوالہ عین ماقبل کی رُو سے “(د)” کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۹۔ احیائےدستور۱۹۷۳ کا فرمان ۱۹۸۵ء (فرمانِ صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی رُو سے “پارلیمنٹ” کی بجائے تبدیل کئے گئے۔
۱۰۔ بحوالہ عین ماقبل نیا آرٹیکل ۲۔الف۔ شامل کیا گیا۔
۱۱۔ فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے “بنیادی” کی بجائے تبدیل کئے گئے۔
۱۲۔ دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴ کی رُو سے شق (۱) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔
۱۳۔ بحوالہ عین ماقبل شامل کئے گئے۔
۱۴۔ بحوالہ عین ماقبل نئی شق (۲ الف) شامل کی گئی۔

Leave a Comment